تحریر :عزیز احمد علی زئی
دنیا ایک تیز رفتاری سے بدلتی جا رہی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام علم، تحقیق اور تخلیق کی بنیاد پر انقلاب برپا کر رہی ہیں۔ نئی نئی راہیں نکالی جا رہی ہیں، ہر دن کوئی نئی ایجاد، کوئی نئی آسانی سامنے آتی ہے۔ دنیا کی یہ پیش رفت خاموشی سے جاری ہے—نہ شور، نہ واویلا، بس نتیجہ خیز محنت۔
مگر دوسری طرف ہمارے معاشرے کی حالت دیکھیے۔ کسی کو اگر گریڈ 18 یا گریڈ 20 کی سرکاری نوکری مل جائے، تو گویا زمین و آسمان ایک کر دیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسا شور مچتا ہے جیسے کسی نے چاند فتح کر لیا ہو۔ ویڈیوز، تصویریں، مبارکبادوں کی لائن، اور جذبات سے لبریز پیغامات—بس یہ ایک نوکری گویا کامیابی کی معراج بن جاتی ہے۔
یہ سوچ دراصل ایک ایسی ذہنی غلامی کی علامت ہے جو جسمانی زنجیروں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملازمت بھی ایک خدمت ہے لیکن یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ سرکاری ملازمت ہی خدمت اور کامیابی ہے جب ہم کامیابی کو صرف ایک مخصوص راستے سے منسلک کر دیتے ہیں—یعنی سرکاری ملازمت—تو ہم نہ صرف اپنے نوجوانوں کی تخلیقی قوتوں کو محدود کرتے ہیں بلکہ انہیں دنیا کی بدلتی ہوئی حقیقتوں سے بھی بیگانہ کر دیتے ہیں۔
امام محمد غزالیؒ کا ایک نہایت فکرانگیز قول ہے:
"علم وہ نہیں جو صرف زبان پر ہو، بلکہ اصل علم وہ ہے جو عمل میں آئے اور انسان کی سوچ کو بدل دے۔"
یہ قول اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ اگر علم صرف کسی عہدے یا ملازمت کے حصول کا ذریعہ بن جائے اور انسان کی سوچ، بصیرت اور تخلیقی قوت کو بیدار نہ کرے، تو وہ علم محض رٹا ہوا مواد رہ جاتا ہے—نہ وہ معاشرے کو بدلتا ہے، نہ فرد کو۔
اسی تناظر میں جب ہم تعلیم کو صرف نوکری کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تو ہم اس علم کی اصل روح کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ امام غزالیؒ کے نزدیک علم کا مقصد صرف دنیاوی فائدہ نہیں، بلکہ شعور کی بیداری اور انسان کو اپنی حقیقی پہچان کی طرف لے جانا ہے۔
آج دنیا کو ایسے اذہان کی ضرورت ہے جو مسائل کا حل نکال سکیں، جو کچھ نیا سوچ سکیں، جو علم کو صرف یاد کرنے کے بجائے اسے زندگی میں برتنے کا ہنر جانتے ہوں۔ جب تک ہم تعلیم کو صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے رہیں گے، ہم نہ ترقی کر پائیں گے اور نہ ہی عالمی دوڑ میں کسی مقام پر آ سکیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو آزاد کریں، کامیابی کا مفہوم وسیع کریں اور نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ زندگی میں نوکری کے سوا بھی بہت کچھ ہے۔ علم، تخلیق، خدمت، قیادت، اور اپنے منفرد راستے کی تلاش—یہی اصل کامیابی ہے۔
Published 3 May 2025
Www.youthleadersbalochistan.com