بلوچستان کے سکولوں کا المیہ


تحریر :عزیز احمد علی زئی

پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں، جب بھی گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم کی بہتری کا ذکر ہوتا ہے تو سب سے پہلا ہدف ٹیچرز کی حاضری کو بنایا جاتا ہے۔ لگتا ہے جیسے تعلیم کی خرابی کی واحد جڑ یہی ایک مسئلہ ہو۔ مگر جب حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو کہانی کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔

ہر روز ٹیچرز پر نگرانی کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ایک طرف ڈی ای او (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر) اور ڈی ڈی او (ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر) ہر وقت حاضری رجسٹر کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔ ۔ اور جیسے یہ کافی نہ ہو، تو سیکرٹری تعلیم کی طرف سے متعارف کرایا گیا آر ٹی ایس ایم (ریگولر مانیٹرنگ سسٹم) ہر مہینے اسکولوں کے چکر لگاتا ہے تاکہ کہیں کوئی ٹیچر چھٹی پر نہ ہو۔

ادھر ایل سی سپر وائزرز الگ سے ٹیچرز کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہیں۔ اور پھر پی ٹی ایس ایم سی کمیٹی کے مقامی نمائندے بھی، جنہیں تعلیم سے زیادہ ذاتی غصہ نکالنے کا ایک نیا موقع ہاتھ آیا ہے۔ اب تو حد ہی ہوگئی جب بلدیاتی نمائندوں، مثلاً کونسلرز وغیرہ، کو بھی اسکولوں کی نگرانی پر لگا دیا گیا۔ ہر طرف سے دباؤ، ہر طرف سے مانیٹرنگ — لیکن صرف ایک ہی نکتہ: "ٹیچر حاضر ہے یا نہیں؟"

اصل مسائل؟ جنہیں کوئی دیکھنے کو تیار ہی نہیں۔ اسکولوں میں سہولیات کی کمی، ایک ہی استاد پر پورے اسکول کا بوجھ، ایک کلاس میں پچاس پچاس بچے، اور دن میں 10 سے 30 پیریڈ لینے کی مجبوری — یہ سب کسی کے ایجنڈے پر نہیں۔ بچوں کے لیے کتابیں، فرنیچر، پانی، بجلی — یہ سب اشیائے تعیش بن چکے ہیں۔
ٹیچرز کو بس حاضر رہنے کا حکم ہے، چاہے وہ ایک ساتھ چار کلاسز سنبھالیں یا چودہ۔
اب تو بائیو میٹرک سسٹم بھی لاگو کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے تاکہ حاضری کو مزید "یقینی" بنایا جا سکے۔ جیسے حاضری ہی تعلیم کی کامیابی کی کنجی ہو۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب ایک استاد کو دن بھر بچوں کو خاموش کروانے سے ہی فرصت نہ ملے، تو وہ پڑھائے گا کیسے؟ جب ایک ٹیچر 30 بچوں کی جگہ پورے سکول کے بچوں کا بوجھ اٹھائے، تو تعلیم میں بہتری کیسے آئے گی؟ جب ڈی سی اور ڈی ای او کی سربراہی میں ہونے والے اجلاسوں کا مقصد صرف ٹیچرز کی تذلیل، معطلی یا تبادلہ ہو، تو تبدیلی کی امید کیسی؟
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ نظام میں چند گھوسٹ ٹیچرز ضرور موجود ہیں جو تنخواہ تو لیتے ہیں لیکن اسکولوں کا رخ نہیں کرتے، اور ان کے خلاف سخت کارروائی بے شک وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم، یہ انصاف نہیں کہ اُن محنتی، دیانتدار اور فرض شناس اساتذہ کو بھی اسی نظر سے دیکھا جائے جو روزانہ طویل فاصلے طے کر کے، محدود وسائل میں بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے اساتذہ، جو واقعی بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں، اُن کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی ریاستی سطح پر ہونی چاہیے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے نظام میں مخلص اساتذہ کی قدر کم اور ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا چلن زیادہ ہے۔ جب کوئی استاد کسی جائز دفتری کام جیسے تبادلے، سالانہ انکریمنٹ، یا ریٹائرمنٹ کے لیے دفتر جاتا ہے تو اکثر اُسے رشوت طلبی، ٹال مٹول اور ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فائل کو آگے بڑھانے کے لیے پیسے مانگنا گویا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو نہ صرف استاد کا اعتماد مجروح کرتا ہے بلکہ اُسے دل سے کام کرنے سے بھی روک دیتا ہے۔ اگر اچھے استاد کی قدر نہ کی جائے تو پھر تعلیمی بہتری محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔
صاف بات یہ ہے کہ:
ٹیچرز کی نگرانی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اگر تعلیمی معیار کو واقعی بہتر بنانا ہے تو اساتذہ کے مسائل کا ادراک اور ان کا حل نکالنا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ان پر اعتماد کیا جائے، ان کی عزت کی جائے، ان کے لیے سازگار ماحول مہیا کیا جائے — تب جا کر تعلیمی نظام میں بہتری کی کوئی کرن پھوٹ سکتی ہے۔
ورنہ موجودہ حالات میں تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
"ٹیچر موجود ہے، تعلیم غائب ہے۔"

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *